بحرین سے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے ذرائع کی رپورٹ کے مطابق آج صبح آل سعود کے کرائے کے غنڈوں کی پشت پناہی میں خلیفی غنڈوں کی درندگی کا شکار ہوکر شہید ہوگئی ہیں۔ سترہ میں ذرائع نے نو سالہ ننھی سی بچی فاطمہ علی خلیل کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آج علی الصبح 4 بجے خلیفی اور سعودی غنڈوں نے ایک کے گھر پر آنسو گیس کے گولے پھینکے اور آنسو گیس کے بے تحاشا استعمال کے نتیجے میں شہیدہ فاطمہ علی خلیل کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر شہید ہوگئیں۔ پھول سی ننھی فاطمہ علی خلیل کی شہادت کے ساتھ انقلاب بحرین کے شہیدوں کی تعداد 35 ہوگئی ہے۔14 فروری یوتھ الائنس فار بحرین ریوالوشن نے خلیفی بادشاہ کی طرف سے یکم جون کو ایمرجنسی کے خاتمے کے اعلان کے بعد پرامن مظاہروں کی طرف لوٹنے کا اعلان کیا تھا اور یکم جنوری کا دن گذر گیا مگر بحرین کی سڑکوں پر خلیفی اور سعودی فورسز بدستور موجود ہیں تا ہم مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔بحرین میں آل خلیفہ اور آل سعود نے گویا عالمی طاقتوں سے تین مہینوں کی مہلت طلب کی تھی اور اس عرصے میں بحرین میں عالمی ضمیر کی میت پر ملت بحرین نے خوب سوگواری کی کیونکہ وہاں عالمی ضمیر برین ڈیتھ (Brain death) کا شکار ہوگیا اور آل خلیفہ اور آل سعود نے دنیا والوں کی آنکھوں میں آنکھیں مظالم اور بے شرمیوں کی تمام حدود پھلانگ دیں۔ آل خلیفہ اور آل سعود نے مہلت لی تھی تاکہ اس عرصے میں ظلم و جبر کی تمام ترکیبیں آزما لیں حتی کہ ملت بحرین زندگی کا نعرہ لگانا چھوڑ دے اور ماضی کی طرح غلامی کی زندگی قبول کرے لیکن سعودی ـ خلیفی مہلت ختم ہوئی اور ملت بحرین نے ثابت کرکے دکھایا کہ زندہ ہے اور صہیونی اور مغربی غلاموں کو مزید آقا کے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔عوام نے 14 فروری انقلابی اتحاد کی کال کو مثبت جواب دیا ہے اور ہر روز تمام شہروں اور دیہاتوں میں آل خلیفہ اور آل سعود کے جارحین کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ایمرجنسی اٹھ جانے اور خلیفیوں کی طرف سے منامہ سے فوجوں کی پسپائی کے اعلان کے باوجود دارالحکومت افواج کے محاصرے میں ہے اور سڑکوں پر خلیفی اور سعودی فورسز کے ساتھ ساتھ کرائے کے نقاب پوش بیرونی غنڈوں کا گشت جاری ہے۔ ایمرجنسی اٹھ گئی ہے لیکن بحرین مارشل کا نظارہ پیش کررہا ہے۔ آل سعود کے آنے کے بعد خلیفیوں نے لؤلؤہ اسکوائر کو منہدم کردیا ہے لیکن بحرین کے انقلابی عوام کہہ رہے ہیں کہ وہ اس اسکوائر کو عنقریب تعمیر کریں گے اور یہ بحرینی عوام کے عزم کی علامت ہے۔ وہ انقلاب کو کامیابیوں کی چوٹیاں سر کرنے تک جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالی مظلوموں کا حامی اور ناصر ہے۔

اپڈیٹ:سعودی اور خلیفی فوجیوں نے در حقیقت امام علی النقی علی علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں منعقدہ مجلس پر حملہ کیا تھا۔ مجلس ایک گھر میں ہورہی تھی۔ کہ سعودی اور خلیفی جلادوں نے گھر پر حملہ کیا اور صوتی بموں اور آنسو گیس کے دسیوں گولے گھر کے اندر پھینکے جس سے کئی افراد کو سانس کی تکلیف ہوئی اور کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ ننھی فاطمہ علی خلیل دم گھٹنے سے شہید ہوگئیں۔ بحرین میں ایک شیعہ ملک ہونے کے ناطے مجالس عزاداری معمول کی بات ہے لیکن جب سے اس ملک میں انقلاب کا آغاز ہوا ہے اور جب سے خلیفیوں کو آل سعود کی فوجی مدد حاصل ہوئی ہے اور آل سعود نے بحرین پر فوجی قبضہ کررکھا ہے عزاداری کی مجالس بھی آل سعود کے زیر کنٹرول شرقیہ کے علاقوں کی مانند، منع کی گئی ہیں۔ بحرین کے بہادر اور مظلوم عوام نے کل رات کو امام علی بن محمد النقی الہادی علیہ السلام کی شہادت کے سلسلے میں حسینیات میں مجالس منعقد نہ کرسکے لیکن گھروں میں یہ مجالس منعقد ہوئیں کیونکہ بہت سی کئی حسینیات تو مساجد کے ساتھ ساتھ شہید کردی گئی ہیں اور باقی حسینیات میں مجالس کا انعقاد منع کیا گیا ہے۔ کل رات کی مجلس سترہ کے ایک گھر میں بھی منعقد ہوئی تھی جہاں خلیفیوں اور سعودیوں نے اہل بیت (ع) نبی (ص) سے اپنی تاریخی دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے اس مجلس پر حملہ کیا جس میں اہل بحرین نے اپنے انقلاب کو پینیسویں شہید کی قربانی بھی پیش کردی جو آل سعود اور آل خلیفہ کے جبر و ستم کی تاریخ میں ایک نئے اور سیاہ باب کا اضافہ بھی شمار کیا جاسکتا ہے اور بحرینی عوام اس سیاہ باب کو بھی یاد رکھیں گے۔ اسی اثناء میں الوفاق الاسلامی جماعت کے ایک رکن نے سعودی اور خلیفی جلادوں کے ہاتھوں ننھی فاطمہ علی خلیل کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود اور آل خلیفہ کے یہ اقدامات ملکی صورت حال کو مزید پیچیدہ کررہے ہیں۔ الہادی نے کہا: شیعیان آل رسول (ص) کے مظلوم اماموں کی شہادت پر مجالس عزاء کا انعقاد معمول کی بات ہے اور ہم کئی صدیوں سے اس سنت پر عمل کررہے ہیں۔ آل خلیفہ کے حکام کا بھی دعوی ہے کہ وہ "دینی اور مذہبی مراسمات پر حملے نہیں کرتے" لیکن ہم نے دیکھا کہ انھوں نے دینی اور مذہبی مراسمات پر حملہ کرکے دکھایا۔
انھوں نے کہا کہ ایمر جنسی کے خاتمے کے دعووں کے باوجود حکومت اور متعصب سعودی جارح افواج کا رویہ بد ترین ہے کہ جو آئے روز مساجد میں مذہبی اجتماعات کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتے ہیں تاہم شہادت امام علی نقی علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاء کے اجتماعات پر سعودی ناصبیوں کے حملے شرمناک فعل ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بحرین میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو ایک عدالت میں صرف اس لئے پیش کیا جا رہاہے کہ انھوں نے سعودی جارحیت سے زخمی ہونے والے بحرینیوں کو ابتدائی طبی امداد دی ہے۔ انھوں نے اس عدالت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عدالت کے فیصلوں کو نہیں مانا جائے گا کیونکہ یہ طرز عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔آل خلیفی بےشرمی کی انتہا بھی دیکھنے کے قابل ہے:ایک خلیفی اہلکار نے رائٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "سرکاری افواج کی منامہ کے نواح میں کہیں بھی کسی سے کوئی جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔رائٹرز کے نمائندے نے سرکاری اور سعودی فورسز کی طرف سے مجلس عزا پر حملے اور ننھی فاطمہ علی خلیل کی شہادت کا حوالہ دیا تو انھوں نے کہا: "نہیں! ہرگز نہیں! یہ ایک حقیقت ہے کہ جب سے (یکم جون کو) ملک میں ایمرجنسی کا خاتمہ ہوا ہے کبھی بھی کسی مقام پر بھی کوئی بھی جھڑپ نہیں ہوئی ہے"!۔ سوال یہ ہے کہ یہ خلیفی حکام واقعی سادہ لوح ہیں یا پھر دنیا والوں کو سادہ لوح سمجھتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ 6 دنوں میں بحرین کے مختلف علاقوں میں دسیوں جھڑپیں ہوئی ہیں اور دسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہی نہیں اسی عرصے میں ایک خاتون اور دو مرد بھی خلیفی اور سعودی فوجوں کے حملوں میں شہید ہوگئے ہیں گو کہ ان میں سے ایک شہید خلیفی سعودی اذیتکدے میں تشدد کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے تھے۔خلیفی اہلکار نے ان تمام حقائق کو نظر انداز کیا اور صدام کے وزیر اطلاعات محمد سعید الصحاف کی یاد زندہ کرتے ہوئے کہا: بحرین میں امن و استحکام قائم ہوا ہے اور حالات بالکل معمول پر ہیں اور کہیں بھی کسی غیر معمولی واقعے کی کوئی اطلاع تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔ سعید الصحاف وہ وزیر اطلاعات تھے کہ آدھے بغداد پر امریکیوں کا قبضہ ہوچکا تھا اور وہ صحافیوں سے مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ عراق میں بالکل خیریت ہے اور بغداد میں معمول کی زندگی جاری و ساری ہے اور کسی قسم کے کسی غیر معمولی واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے جبکہ وہی دن سقوط بغداد کا دن ثابت ہوا اور اسی دن صدام کی فوج کے تمام اعلی افسر اپنے اہل خانہ کے ساتھ بغداد ایئرپورٹ پر موجود تھے جو سب کے سب امریکہ سے آئے ہوئے دیو ہیکل ہوائی جہازوں میں بیٹھ کر امریکہ چلے گئے اور صدام کی تینتیس سالہ جابرانہ آمریت کا خاتمہ ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز